روم9؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)اٹلی میں آئینی عدالت نے ایک قانون کو ختم کر دیا ہے جس کے مطابق شادی شدہ جوڑوں کے بچوں کا خاندانی نام والد کے خاندانی نام پر رکھ دیا جاتا ہے۔ عدالت میں وکلا کا کہنا تھا کہ یہ قانون خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔اس سے قبل انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے اس قانون کی مذمت کی تھی اور اٹلی سے کہا تھا کہ وہ اسے تبدیل کرے۔ یہ قانون قدیم روم کے وقت سے لاگو ہے۔کارکنان نے منگل کے روز آئے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا اور پارلیمان سے استدعاء کی کہ وہ اس فیصلے کی تائید کرے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ خاندانی نام کو خود کار طور پر والدین کی مرضی کے خلاف طے کردیناغیرقانونی ہے۔اس کیس میں برازیل اور اٹلی سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا تھا جس کی خواہش تھی کہ ہسپانوی ممالک کی روایت کے مطابق ان کے بیٹے کو دونوں والدین کے نام کا مرکب بطور خاندانی نام دیا جائے۔اٹلی کے حکام نے جب ان کی یہ درخواست نہیں مانی تو وہ انسانی حقوق کی یورپی عدالت میں چلے گئے جس نے2014میں ان کے حق میں فیصلہ دیا۔یورپی عدالت کا کہنا ہے کہ یہ قانون اٹلی کے آئین میں صنفی برابری کے اصول کے منافی ہے۔اٹلی میں ایوانِ زیریں نے اس قانون کو تبدیل کرنے کے لیے ایک بل پاس کر رکھا ہے تاہم ایوانِ بالا یعنی سینٹ میں اسے کئی سالوں نے روکاجارہاہے۔بائیں بازو کی سیاسی کارکن اور رکنِ پارلمیان فیبریضیہ جولیانی کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت نے ہمارے معاشرے کے لیے ایک انتہائی اہم فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا سینیٹ کے پاس اب کوئی بہانہ نہیں ہے کہ وہ اس قانون کوتبدیل نہ کرے۔